پھولوؔں
کی آرزا میں بڑے زخم کھائے ہیں
لیکن
چمن کی خار بھی اب تک پرائے ہیں
مرنے
کے بعد ان کو میں یاد ٓایا ہوں
کیا
جلد میرے پیار پہ ایمان لائے ہیں
پھولوؔں
کی آرزا میں بڑے زخم کھائے ہیں
لیکن
چمن کی خار بھی اب تک پرائے ہیں
مرنے
کے بعد ان کو میں یاد ٓایا ہوں
کیا
جلد میرے پیار پہ ایمان لائے ہیں
پی
کر جو ذرا کوئی بہکا ساقی نے اسے یہ حکم
دیا
کم
بخت بڑا کم ظرف ہے تو جا بھاگ نکل میخانے
سے
پہلے
تو نہ رکھا باز اسے دم بھر کیلیے جل جانے
سے
اب
شمع کو دیکھو روتی ہے مل مل گلے پروانے سے
دل کے معاملات میں سود و
زیاں کی بات
ایسی ہے جیسے موسم ِگل میں
خزاں کی بات
اچھا وہ باغِ خلد جہاں رہ
چکے ہیں ہم
ہم سے ہی کر رہا ہے تو
زاہد وہاں کی بات
زاہد ترا کلام بھی ہے با
اثر مگر
پیرِ مغاں کی بات ہے پیرِمغاں کی بات
اک زخم تھا کہ وقت کے ہاتھوں سے بھر گیا
کیا پوچھتے ہیں آپ کسی مہرباں کے بات
ہر بات زلفِ یار کی مانند ہے دراز
جو بات چھیڑتے ہیں وہ ہے داستاں کی بات
اٹھ کر تری گلی سے کہاں
جائیں اب فقیر
تیری گلی کے ساتھ ہےاب
جسم وجاں کی بات
باتیں اِدھر اُدھر کی سنا کر جہان کو
وہ حذف کر گئے ہیں عدم ؔدرمیاں
کی بات
آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظام عالم
آپ گزرے ہیں تو اک موجِ
رواں گزری ہے
گرچہ سو بارغمِ ہجر سے
جاں گزری ہے
مگر جو دل پہ گزرنی تھی
وہ کہاں گزری ہے
ہوش میں آئے تو بتلائے تیرا دیوانہ
دن کہاں گزرا ہے اور رات
کہاں گزری ہے
حشر کے بعد بھی دیوانے تیرے پوچھتے ہیں
وہ قیامت جو گزرنی تھی کہاں گزری ہے
پی
کر جو ذرا کوئی بہکا ساقی نے اسے یہ حکم
دیا
کم
بخت بڑا کم ظرف ہے تو جا بھاگ نکل میخانے
سے
پہلے
تو نہ رکھا باز اسے دم بھر کیلیے جل جانے
سے
اب
شمع کو دیکھو روتی ہے مل مل گلے پروانے سے