بے کیف ہیں یہ ساغر و مینا تیرے بغیر


 

بے کیف ہیں یہ ساغر و مینا تیرے بغیر

آساں ہوا ہے زہر کا پینا تیرے بغیر

 

جچتا نہیں کوئی نگاہوں میں آج کل

بے عکس ہے یہ دیدۂِ بینا تیرے بغیر

 

کیا کیا تیرے فراق میں کی ہیں مُشقَتیں 

اِک ہو گیا ہے خون پسینہ، تیرے بغیر

 

کن کن بلندیوں کی تمنا تھی عشق میں 

طے ہو سکا نہ ایک بھی زینہ تیرے بغیر

 

تُو آشنائے شدتِ غم ہو تو کچھ کہوں 

کتنا بڑا عذاب ہے  جینا تیرے بغیر

میخانہ تیرا، جام ترا، رِند بھی ترے || کلام پیر نصیر الدین نصیر شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ


میخانہ تیرا، جام ترا، رِند بھی ترے

 ساقی مزا تو جب ہے، کہ سب  کو پلا کے پی


شاید نہ کوئی اور جھکے تیرے سامنے

 زاہد، ذرا صراحی کی گردن جھُکا کے پی


آدابِ مے کشی کے تقاضے سمجھ نصیرؔ

ساغر اٹھا کے اور نگاہیں جما کے پی


 پیر نصیرالدین نصیرؔ

وہ دیکھ کے کہتے ہیں میری آنکھ جو نم ہے || صوفیانہ شاعری

 

وہ دیکھ کے کہتے ہیں میری آنکھ جو نم ہے

تجھ کو میرے ہوتے ہوئےکس بات کا غم ہے


کیسے کہوں سرکار کا احسان یہ کم ہے

آپ اپنا سمجھتے ہیں بڑا مجھ پہ کرم ہے


ہے مصحف رخ یار کا قرآن ِ محبت

معراج نظر عشق میں دیدارِ صنم ہے


اجاڑ دے میرے دل کی دنیا سکون میرا تباہ کر دے || بیدم وارثی کی شاعری


 

اجاڑ دے میرے دل کی دنیا سکون میرا تباہ کر دے

مگر یہی التجا ہے میری ، میری طرف اک نگاہ کر دے

 

یہ پردہ داری ہے کیا تماشہ مجھی میں رہ کر مجھی سے پردہ

تباہ کرنا  اگر ہے مجھ کو نقاب اٹھا اور تباہ کر دے

 

سہانی راتوں کی چاندنی میں کبھی نہ تم بے نقاب آنا

میں دل پہ قابو تو پا ہی لوں گا میری نظر نہ گناہ کر دے

 

میں بندہ ءِ پر خطا ہوں بیدم میرے گناہوں کا جانچنا کیا

حساب لینا ، حساب لے لے مگر کرم بے حساب کر دے

کبھی یوں بھی آ میری آنکھ میں کہ میری نظر کو خبر نہ ہو || صوفیانہ شاعری

 

کبھی یوں بھی آ میری آنکھ میں کہ میری نظر کو خبر نہ ہو

مجھے ایک رات نواز دے چاہے اس کے بعد سحر نہ ہو

 

وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ بھی صفت عطا کرے

تجھے بھولنے کی دعا کروں تو دعا میں میری اثر نہ ہو

 

میرے پاس میرے حبیب آ ذرا اور دل کے قریب آ

تجھے دھڑکنوں میں چھپا لوں میں کہ بچھڑنے کا کبھی ڈر نہ ہو

 

کبھی شب کے پھولوں کو چوم   کےکبھی دن کی دھوپ میں جھوم کے

یوں ہی ساتھ ساتھ چلیں سدا کبھی ختم اپنا سفر نہ


پھولوؔں کی آرزا میں بڑے زخم کھائے ہیں || لفظ زخم پر شاعری

 

پھولوؔں کی آرزا میں بڑے  زخم کھائے ہیں

لیکن چمن کی خار بھی اب تک پرائے ہیں

مرنے کے بعد ان کو میں یاد ٓایا ہوں

کیا جلد میرے پیار پہ ایمان لائے ہیں


This entry was posted in